جسم فروشی کی تاریخ – Part 4

قدیم زمانے میں جسم فروشی


          

موجودہ زمانے میں قانونی مفہوم میں جسم فروشی تہذیب کا ایک رِستا ہوا زخم ہے۔ زیادہ سخت الفاظ میں بات کی جائے تو ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ وحشی اور غیر مہذب اقوام میں سو ہو اور باویری جیسے علاقوں کی پیشہ ور طوائفوں جیسی عورتیں بالکل وجود نہیں رکھتی تھیں ۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وحشی اور غیر مہذب اقوام ہم سے زیادہ باعصمت تھیں اور ان کے مرد و خواتین زیادہ اخلاق پسند تھے۔

بشریات کے علماء اور مصنفین نے اس معاملے پر اکثر روشنی ڈالی ہے۔ جسم فروشی کی عدم موجودگی کو ناجائز جنسی عمل کی عدم موجودگی کی شہادت سمجھا جاتا ہے نیز وحشی اور غیر مہذب اقوام کے باعصمت ہونے کا ثبوت مانا جاتا ہے ۔

حقیقت میں یہ کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے۔

لوگ جسم فروشی کی عدم موجودگی کو عصمت کی موجودگی سے اس لئے مربوط سمجھتے ہیں کہ وہ اس حقیقت سے لاعلم ہوتے ہیں کہ بیشتر غیر مہذب اقوام میں ایسی جنسی بے راہ روی موجود ہوتی ہے، جو کہ جسم فروشی کی قانونی تعریف کے علاوہ اس سے قطعاً مختلف نہیں ہوتی۔ جس ملک کی پوری نسوانی آبادی اس کام کے لیے مہیا ہو جو دوسرے ملک کی طوائفیں کرتی ہیں تو ایسے ملک میں پیشہ ورانہ جسم فروشی نہ ہوتی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ اس بات کو وضاحت سے سمجھنے کے لیے ذہن میں دونکات کا ہونا بہت ضروری ہے۔

(1)  کنوارہ پن کا بے پناہ احترام اور عورت کا

      اپنےکنوار پن کو محفوظ رکھنے کا حق۔

 (2) شادی کی روایت کا کسی نہ کسی صورت

      میں موجود ہونا۔

بہت سے غیر مہذب اور وحشی قبیلوں میں کنوار پن کو بہت کم اہمیت دی جاتی ہے اور بعض قبیلے تو اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو بلوغت کے بعد لڑکی میں کنوار پن کی موجودگی کو ایک طرح کی معذوری سمجھا جاتا ہے۔

مارکو پولو (Marco Polo) نے لکھا ہے کہ تبت میں ” کوئی مرد کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرتا جو کہ کنواری ہو”  اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے کہ ” جو عورت مردوں کی صحبت سے دور رہی ہو وہ بیوی بننے کے قابل نہیں ہوتی ۔“ ویسٹر مارکWester Marck کے بقول مشرقی افریقہ کے اکمبا قبیلے میں ایک حاملہ لڑکی کو شادی کے لیے موزوں ترین لڑکی مانا جاتا ہے جبکہ بالائی مونگولا کے مونگواڈی اور فرینچ گیانا کے باگا لوگ ایسی لڑکیوں سے شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو پہلے ہی بچوں کو جنم دے چکی ہوں۔ (دی ہسٹری آف ہیومن میرج ازایڈورڈیویسٹر مارک پانچواں ایڈیشن جلد اول)۔

 دنیا کے مختلف حصوں کی بہت سی وحشی اور غیر مہذب اقوام میں ایسی عورت کو شادی کرنے میں سہولت رہتی ہے۔  جس کے بہت سارے مردوں کے ساتھ معاشقے رہے ہوں۔ ایسی عورت سے شادی کرنے والا مرد اسے ایک ایسی پرکشش عورت سمجھتا ہے جسے پانے کی بہت سے مردوں کو خواہش رہی ہوتی ہے۔

پرانے زمانے میں شادی شدہ عورت پورے قبیلے کی بیوی ہوتی تھی۔ قدیم لوگ کسی عورت سے اس لئے شادی رچاتے تھے کہ وہپورے قبیلے کے مردوں کی مشترکہ ملکیت ہوگی اور سب مرد اس کے ساتھ جنسی عمل کریں گے۔ موجودہ دور میں جس چیز کو جسم فروشی کہا جاتا ہے قدیم زمانے کی اجتماعی شادی اس سے مختلف نہیں ہوتی تھی ۔ تھیوپومیس (Theopompus) کے بقول ”ٹرہانیوں میں قانون ہے کہ عورت مشترکہ ہو گی”۔ ایک زوجگی کے مروج ہونے کا لازمی نتیجہ جسم فروشی ہے۔ مرد کی کثیر زوجی فطرت اور عورتوں کی فراوانی جسم فروشی کے فروغ کا سبب ہے۔

شمالی امریکہ کے کچھ خاص قبیلوں میں شادی (اگر اسے شادی کہا جا سکے تو) ناجائز جنسی مراسم سے تھوڑی سی ہی مختلف ہوتی تھی۔ جب کوئی کنواری لڑکی یہ دیکھتی کہ اس کی شادی کا امکان موہوم ہے تو وہ کسی تقریب میں قبیلے کے مردوں کو خود دعوت دیتی کہ وہ اس کے ساتھ باری باری جنسی عمل کریں۔ اس عمل کی وجہ سے اس سے شادی کا ارادہ رکھنے والوں میں کمی کی بجائے ہوتا یہ تھا کہ کوئی نہ کوئی مرد اس سے شادی کی درخواست کر دیتا۔

افریقہ کے بعض حصوں بالخصوص داہومی میں یہ روایت ہے کہ بادشاہ ہر عورت کے ساتھ جنسی عمل کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ یہ طوائفیت کی ہی ایک قسم ہے۔ ان علاقوں میں قبائلی سردار، حکیم اور دوسرے اعلیٰ حیثیت والے مرد جتنی شادیاں چاہیں کر سکتے ہیں اور کنیزیں رکھ سکتے ہیں۔ عورتوں کو خریدا اور کسی بھی وقت چھوڑا جا سکتا ہے اور ایسی عورتوں کی اکثریت موجودہ مفہوم میں طوائف بن کر ہر مرد کو اپنا جسم جنسی عمل کے لئے سونپ دیا کرتی ہے۔

بہت سی غیر مہذب اور نیم مہذب اقوام میں ناجائز جنسی مراسم با قاعدہ طوائفیت میں ڈھل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے تاجروں اور جہاز رانوں نیز حد تو یہ ہے کہ مشزیوں کا مقامی لوگوں میں گھلنا ملنا ہے۔ دنیا کے دور دراز علاقوں میں سفر کرنے والے لوگوں اور دریافت کنندگان نے لکھا ہے کہ ایسے علاقوں میں یورپی تاجر، جہازراں اور مشزی مقامی عورتوں کو پیسے ادا کر کے انہیں اپنی ”عارضی بیویاں ” بنا لیتے ہیں۔ ایسی عورتوں کے والدین یا شوہر غیر ملکی لوگوں کے ساتھ ان کے اس طرح کے ناجائز مراسم پر  توہین محسوس نہیں کرتے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بہت سی غیر مہذب اور نیم مہذب اقوام میں پیشہ ورانہ جسم فروشی اور چکلے وجود پذیر ہوئے تھے۔

مے ہیو (Mayhew) اور ہیمنگ (Hemyng) اپنی کتاب Londom Labour And London Poor میں جسم فروشی کے بارے میں لکھتے ہوئے جرگھم ویکفیلڈ (Jermingham Wakefield) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کی بندرگاہوں پر بحری جہاز رانوں کی آمدورفت سے ماوری قبیلے میں جسم فروشی رائج ہوگئی۔

 وہ بتاتا ہے کہ اس قبیلے میں عارضی بیویوں کی رسم شروع ہو گئی۔ کچھ جہاز رانوں کے ساتھ مستقل طور پر عورتیں رہتی تھیں لیکن باقی مجبور تھے کہ وہ عورتوں کو کرائے پر حاصل کریں۔ رسمی طور پر سودے بازی ہوتی تھی اور جب کوئی عورت جنسی تسکین دینے سے قاصر ہوتی ہے تو اس کی جگہ دوسری عورت کو حاصل کر لیا جاتا تھا۔“ یہی مصنف لکھتے ہیں کہ ”ہم نے 1846 ء کے ویلنگٹن کے جرائم کے کیلنڈر میں ایک مقامی شخص کو چکلا چلانے کے الزام میں سزا دئیے جانے کا پڑھا۔“

جب رقم یا اس کے مساوی کوئی شے داخل ہوتی ہے تو جسم فروشی فروغ پانے لگتی ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں اور تمام اقوام میں ایسے والدین پائے جاتے ہیں جو رقم کے بدلے اپنی بیٹیوں کو طوائف بنانے پر تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی پائی جاتی ہیں جو بالغ ہونے کے بعد تحائف یا نقدی کے بدلے اپنا کنوار پن کھونے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ ویسٹر مارک نے پورٹر (Porter) کے حوالے سے لکھا ہے کہ میڈیسن جزائر کی لڑکیاں ان سب مردوں کی بیویاں ہوتی ہیں جو ان کا جسم خرید سکتے ہوں۔ ایک خوبصورت بیٹی کو اس کے والدین ایک ایسی نعمت سمجھتے ہیں جو انہیں دولت اور خوشحالی عطا کر سکتی ہے۔

اسی طرح لائن جزائر کی عورتوں کو جتنے مرد چاہیں معاوضہ ادا کرکے جنسی عمل کے لیے لے جا سکتے ہیں۔“ ویسٹر مارک ہی بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگ رقم ادھار لے کر اپنی بیٹیوں یا بیویوں کو رہن رکھوا دیتے تھے۔ یہی روایت آگے چل کر باقاعدہ جسم فروشی میں بدل گئی ۔بالخصوص میلانیشین جزائر ، کیرولین جزائر، یوگنڈا، گرین لینڈ اور شمالی وسطی اور جنوبی امریکہ کے لاتعداد انڈین قبیلوں میں۔

بہت سی لڑکیاں اپنی مرضی سے یا اپنے والدین کی ہدایت پر اپناجہیز اکٹھا کرنے کے لیےعارضی طور پر طوائف بن جاتی تھیں۔ برینم (Brentome) لکھتا ہے کہ قبرص کی عورتوں میں پرانے زمانے میں یہ رسم عام تھی۔ وہ ساحل پر چلی جاتیں اور جہاز رانوں کو اپنا جسم بیچ کر رقم کماتی تھیں۔

 نکاراگوا میں بھی یہ روایت موجود رہی بعض قبیلوں میں یہ روایت بھی موجود رہی ہے کہ لوگ اپنی بیویاں یا بیٹیاں معاوضہ لے کر اجنبی لوگوں کو جنسی عمل کے لیے دے دیا کرتے تھے۔ بعض قبیلوں میں یہ روایت مذہبی رسومات کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ پرکس ( Purchas) کے بقول کائنڈو میں ( یہ تبت سے ملحقہ علاقے کا قدیم نام ہے) روایت تھی کہ لوگ اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے وہاں سے گزرنے والےاجنبی مسافروں کو اپنی بیویاں، بہنیں اور بیٹیاں پیش کر دیا کرتے تھے۔

پیٹا گونیا میں ”پروہت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کوئی مرد اپنی بیوی کو جنگل یا کسی بھی متعینہ مقام پر بھیج دیتا تھا اور وہاں جوشخص اسے پہلی بار ملتا اس عورت کے ساتھ جنسی عمل کرنے کا استحقاق رکھتا تھا جبکہ اس عورت کو وہاں بھیجنے والا اس کا خاوند اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا۔“

 میلینو وسکی (Malinowski) اپنی یادگار کتاب The Sexual Life Of Savages In North-Western Melanesia میں لکھتا ہے کہ سنا کاڈی نامی ایک سردار سفید فام لوگوں کی جنسی تسکین کے لیے اپنی بیویاں پیش کرتا تھا اور اس کتاب کی اشاعت کے وقت (1929ء) میں اس کا نوجوان بیٹا اپنے باپ کی روایت پر عمل پیرا تھا۔ میلینو وسکی کہتا ہے: ”ایک سفید فام تاجر نے مجھے بتایا کہ ایک مقامی باشندہ اس کے لیے نوجوان لڑکیاں مہیا کرتا تھا۔ ایک بار کوئی  لڑکی نہ ملی تو اس نے اپنی نوجوان بیوی کو پیش کر دیا اور خود دہلیز

پر بیٹھا اس کا انتظار  کرتا رہا۔“

بہت سے غیر  مہذب اور نیم مہذب قبیلوں میں یہ روایت رہی ہے ۔ نیز  بعض صورتوں میں اب بھی موجود ہے کہ جنسی تسکین کے لئے مردوں اور عورتوں کو مخصوص کر دیا جاتا ہے۔

ان  کو جسم فروش/ طوائف  نہ کہے جانے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ ان  میں اور جنوبی امریکہ کے بدنام ترین چکلوں میں بیٹھنے والی عورتوں میں سوائے نام کے اور کوئی فرق نہیں ہے۔ پولینیسیا کے ٹینی جزائر کے لوگ لڑکیوں کی ایک خاص تعداد کو ہر طرح کی جنسی کجروی کے لیے مخصوص کر رکھتے تھے اور انہیں تربیت بھی دی جاتی تھی۔

تاہم ہیمنڈ (Hammond) نے نیو میکسیکو کے پیوبلوانڈینز کی ایک رسم کا جو حوالہ دیا ہے وہ شاید ایسی رسموں میں سب سے زیادہ بری ہے۔ ان لوگوں میں روایت ہے کہ ہر بستی میں ایک کم عمر لڑکے کو منتخب کر لیا جاتا ہے جس کے ساتھ باقی سارے مرد جنسی عمل کرتے ہیں۔ ایسے لڑکے کو مجیراڈو (Mujerado) کہا جاتا تھا، جس کا مطلب تھا: ” عورت میں بدلا گیا۔“

____________________________

 


Leave a Comment