Ek Gadhe ki Sarguzisht

کرشن چندر کا مقبول ناول ‘ایک گھڈھے کی آتما کتھا’ ایک گدھے کے ذریعے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر طنز کرتا ہے جو آدمی کی زبان میں بات کرتا ہے۔ اس ناول کی عجیب دنیا میں سرکاری دفاتر کے بیوقوف اہلکار، لائسنس لے کر گھومنے والے تاجر، انتخابی جوڑ توڑ میں مصروف رہنما، ادب کے مٹھائی، جدید فن کے نام پر عوام کو اپنی دھن سے الجھانے والے فنکار ہیں۔ موہت سنگیتگیا، نتھالی خواتین جو خوبصورتی کے نام پر بے حیائی کو گلے لگاتی ہیں کارٹونوں کی طرح گھومتی نظر آتی ہیں۔

اخبار میں گدھے کا انٹرویو چھپتا ہے ،اس کے بعد ایک سیٹھ جی انہیں اپنے گھر لے آتے ہیں، انہیں امید ہے کہ گدھا ان کو ٹھیکہ دلوا دے گا۔ یہی نہیں ، سیٹھ جی کی بیٹی کا رشتہ ان کو پیش کیا جاتا ہے،مگر جب سیٹھ جی کو لگا کہ ان کو ٹھیکہ نہیں مل سکتا تو گدھے کی جو درگت ہوئی ،وہ پڑھنے کے قابل ہے۔  یہ ایک بے حد باشعور گدھا ہے ۔اسے ایسے لوگوں کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو دوسروں کی ضرورت اور مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرتے ہیں ۔

Description

Krishna Chandra’s famous novel ‘Ek Ghadhe Ki Atmakatha’ is also named Ek Gadhe ki Sarguzisht in Urdu it satirizes various aspects of society through a donkey who speaks in the language of a man. In the strange world of this novel Ek Gadhe ki Sarguzisht , there are stupid officials of government offices, businessmen wandering around in licenses, leaders engaged in election manipulations, the abbot of literature, and artists who confuse the public in the name of modern art, with their own tune. Mohit Sangeetgya, Nithalli women who embrace promiscuity in the name of beauty are seen walking around like cartoons.

Ek Gadhe ki Sarguzisht is an Urdu-translated novel from the Hindi language. It is the story of a fictional character labeled as a Donkey who faces minor to more enormous tragedy. This story is adventure nature as the wooden son also has the same category.

حضرات میں نہ تو کوئی سادھو فقیر ہوں، نہ پیرو دستگیر ہوں ، نہ شری 108 سوامی گھمگھما نند کا چیلا ہوں ، نہ جڑی بوٹیوں والاصوفی گورمکھ سنگھ مجھیلا ہوں ، میں نہ ڈاکٹر ہوں، نہ حکیم ہوں ، نہ کسی ہمالیہ کی چوٹی پر مقیم ہوں ، میں نہ کوئی فلم اسٹار ہوں ، نہ سیاسی لیڈر ۔۔۔۔۔۔ میں تو بس ایک گدھا ہوں جسے بچپن کی غلط کاریوں کے باعث اخبار بینی کی مہلک بیماری لاحق ہوگئی تھی ۔ ہوتے ہوتے یہ بیماری یہاں تک بڑھی کہ میں نے اینٹیں ڈھونے کا کام چھوڑ کر صرف اخبار بینی اختیار کی، ان دنوں میرا مالک دھنو کمہار تھا جو بارہ بنکی میں رہتا تھا۔

Additional information

Traslation

Urdu

Category
Tags , , , , ,

Author

 

Krishn Chander - Profile & Biography | Rekhta

Krishan Chander

Annotated

In this book, all the Images, pictures, quotations, and explanations have been added from open sources. Mostly just for a better understanding of paragraphs of this book by readers. The original book doesn't contain such images, annotations, notes, or explanations.

Disclaimer

We only promote original writers, authors, publishers, and translators. We also give credit to them in relevant books. This book has been uploaded only for Educational purposes and is free of cost. If any concerned person has any objections or recommendations are warmly welcomed.

Email . bpapers@hotmail.com

 

ek gadhe ki sarguzisht in urdu گھر لے جا کے سیٹھ من سکھ لال اور اس کی بیٹی روپ وتی نے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس وقت رات ہو چکی تھی ،سڑک پر کہیں کہیں گھوڑے تانگوں میں جتے ہوئے جار ہے تھے ۔ ایک بیل کاغذ سے بھرا ہوا چھکڑا کھینچ لئے جارہا تھا۔ دو کتے زنجیروں میں بندھے ہوۓ ایک نوکر کے ساتھ چلے جارہے تھے ۔ ہم جانوروں کی بھی کیا زندگی ہے؟۔ روپ وتی کے ہاتھ میں ایک پتلی سی بید کی چھڑی تھی ۔ وہ اسے ہاتھ میں لئے لئے ٹہل رہی تھی ۔ اور مارے غصے کے تھر تھر کانپ رہی تھی آخر سیٹھ من سکھ لال نے اسے بہت سمجھایا۔ ” کہا ’ تم اپنے ہونے والے خاوند کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتیں اور وہ بھی شادی سے پہلے ہی“۔ میں نے سیٹھ کی طرفداری کرتے ہوئے کہا آپ بجا فرماتے ہیں، عام طور پر پٹائی محبت کے بعد شروع ہوتی ہے ، یاں محبت سے پہلے ہی پٹائی شروع کر دو گی تو زندگی اجیرن ہو جاۓ گی۔ تم چپ رہو جی ۔روپ وتی نے غصّے سی بید گھماتے ہوئے کہا ۔ "سیٹھ من سکھ لال جی نے بید اسکے ہاتھ سے چھین لی ۔" "روپ وتی بید کے بجاۓ ہاتھ گھماتے ہوۓ بولی اچھا یہ بتاؤ ۔ کیا تم سچ مچ اس کتیا پر عاشق ہو۔“ ” کون ہے وہ؟ میں آپ کا اشارہ نہیں سمجھا۔“ " وہی کملا!" "کملا " "ہاں ۔ ہاں" وہی بےحیا کتیا روپ وتی بڑی نفرت سے بولی ” کم بخت عورت ہے کہ مربے کاڈبّہ ہے ۔ جب دیکھو دو چار مرد اس کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح چمٹے رہتے ہیں!" ” کملا ہے تو بہت خوبصورت میں نے اقرار کرتے ہوئے کہا’واں مقابلہ حسن میں ایک بار تو میرے دل میں بھی یہ خیال آیا تھا کہ اسے ملکہ حسن قرار دے دوں" ۔ تو دے دیا ہوتا‘روپ وتی بڑے غصے میں بولی ’پتاجی۔لانا میرا بید کدھر رکھ دیا آپ نے ۔“ میں نے جلدی سے کہا مگر مجھے اس سے عشق نہیں ہے۔ میں تو اصل ایک گدھا ہوں ایک عورت سے کیسے عشق کرسکتا ہوں۔ سیٹھ من سکھ لال جی بولے بھائی آج کل ایک گدھا ہی عشق کر سکتا ہے۔ ورنہ آج کل کے زمانے میں کسی ذی ہوش آدمی کو عشق کرنے کا خیال ہی کیسے ہو سکتا ہے ۔ دیکھو تو چیزیں کس قدر سستی ہو رہی ہیں ۔ گندم کا بھاؤ گر گیا ہے۔ ابھی ابھی اسٹاک ایکسچینج پر میں نے اس مندے میں دس لاکھ روپے کھو دیئے۔ ارے اس خوفناک ستائی کے زمانے میں کون بھلا مانس عشق کرے گا۔سواۓ ایک گدھے کے!“ میں نے کہا ممکن ہے اسٹاک ایکسچینج پر کچھ چیزیں سستی ہوگئی ہوں گی مگر گھاس تو اسی طرح مہنگی ہے۔میری طرح لاکھوں کروڑوں گدھے ہر روز اسی طرح گھاس کی مہنگائی کا رونا روتے ہیں ۔“ ارے تم جب دیکھو ۔ گدھے کی گھاس کا ذکر کرتے ہو میں کچھ کہنے والاتھا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ۔ اور ایک خادم نے آکے کہا سیٹھ آپ کا ٹیلی فون ہے ۔“ سیٹھ بھی بھاگے بھاگے ٹیلی فون پر غالبا اسٹاک ایکسچینج پر اپنی قسمت کا نیا بھاؤ معلوم کرنے گئے ۔ کمرے میں، میں اور روپ وتی اکیلے رہ گئے۔ روپ وتی نے پوچھا سچ سچ بتاؤ مس کملا تمھیں اچھی لگتی ہے؟ ”ہاں“ اس میں کیا ہے جو مجھ میں نہیں؟آواز میں ڈر اوہ تھا ۔ "میں نے کہا جو سچ پوچھو تو دونوں میں کیا ہے" ۔ روپ وتی اٹھلائی ہوئی میرے پاس آئی ڈارلنگ اس روز میں نے تم سے کہا تھا کہ تم کبھی کبھی سیر کے لئے میرے ساتھ جا سکتے ہو۔“ مگر پیٹھ پر زین کسی ہوگی! مجھے یاد ہے! میں نے اس سے کہا۔ وہ میرے اور بھی قریب آگئی۔ بولی تم ہر روز سیر کے لئے میرے ساتھ جا سکتے ہو اور میں تمہاری پیٹھ پر زین بھی نہیں کسوں گی اور دیکھ تمہاری رسی میں خود اپنے ہاتھ میں رکھوں گی سائیس کو بھی نہ دوں گی ۔ "وہ تو بیوی اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے ۔ شوہر کی رسی!" روپ وتی نے اپنی بانہیں میری گردن میں ڈال دیں بولی اور یہ بھی تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ سال میں دو مرتبہ تم میرے ڈرائنگ روم میں آ کے میرے ساتھ ایک ٹیبل پر کھانا بھی کھاسکتے ہو ۔ وہ کون سے دن ہوں گے؟“ ایک تو تمہاری سالگرہ کے روز ۔ روپ وتی بولی تمہاری سالگرہ کب ہوتی ہے؟ ہوتی ہی نہیں ہے مس روپ وتی “میں نے جھلا کے کہا ” کہیں گدھوں اور عام آدمیوں کی بھی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ یہ سال گرہ اور اس قسم کی باتیں بڑے بڑے آدمیوں تک ہی محدود ہیں۔ اچھا خیر ۔ چلئے۔ ایک تو ہماری سالگرہ کے روز آپ ہم سے ڈرائنگ ٹیبل پر ملیں گی اور وہ دوسرا خوش نصیب دن کونسا ہوگا؟ ”جس دن ہم اپنی شادی کی سالگرہ منایا کر یں گے ۔ مس روپ وتی فلم ایکٹرسوں کی طرح لجا کے بولی اور اس نے میرے کان پر ایک بوسہ دیا۔ پھر آہستہ سے اس نے ایک کاغذ میرے سامنے بڑھا دیا۔ ”یہ کیا ہے؟ میں نے پوچھا۔ "کنٹریکٹ ہے" ۔ "شادی کا کنٹریکٹ" ؟ "نہیں پیارے یہ تمہارے اور پتا جی کے بزنس پارٹنر شپ کا کنٹریکٹ ہے" ۔ "لو اب جلدی سے دستخط کر دو نہ میرے ڈونکی مونکی " میں نے کہا ذرا اپنے رخسار پرے ہٹا لو۔ مجھے گد گدی ہوتی ہے۔“ روپ وتی کی آنکھوں میں، میں نے غصے کی ایک جھلک دیکھی ۔ دوسرے لمحے میں غائب تھی ۔ بڑی مشکل سے جانے کس طرح اس نے اپنی نفرت کو مجھ سے چھپا لیا تھا اور اب اسی طرح میرے گلے سے لگی ہوئی کہہ رہی تھی۔ جلدی سے اس کاغذ پر دستخط کرونا۔ کیا تم میرے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے ،ڈھبرو؟ میں نے کہا ”میں تمہارے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں۔ میں تمھیں اپنی پیٹھ پر سوار کر کے بارہ بنکی تک لے جا سکتا ہوں۔ تمھاری نئی کوٹھی کے لئے میں ہزاروں اینٹیں ڈھوسکتا ہوں۔ تمھاری کھڑکی کے نیچے کھڑا ہو کر رات رات بھر پکا گانا سنا سکتا ہوں مگر اس کاغذ پر دستخط نہیں کر سکتا۔ ” کیوں؟“ میں کچھ کہنے والا تھا کہ اتنے جلدی سے دروازہ کھلا اور سیٹھ من سکھ لال پریشان حال پسینے میں تر بتر ہانپتا ہوا اندر آیا۔ آتے ہی روپ وتی سے کہنے لگا" غضب ہو گیا ، غضب ہو گیا ۔ چیزیں اور ستی ہو گئیں ۔ چاول کا بھاؤ دو آ نے من گر گیا۔ کپڑا ایک آنا گز سستا ہو گیا۔ سیمنٹ پر سے سرکاری کنٹرول اٹھ گیا۔ سیمنٹ اک دم چار آنے پونڈ نیچے گیا۔ ایک دم سستا ہو گیا۔“ سیٹھ ایک دم رو کر کہنے لگا’ ہے رام ۔ اب کیا ہو گیا۔“ میں نے حیرت سے کہا چاول کپڑے سیمنٹ کے دام ذرا سے کم ہو گئے تو اس میں کیا برا ہے ۔ عام لوگوں کے لئے یہ چیزیں خریدنے میں ذرا سی آسانی ہو جاۓ گی ۔اس میں رونے کی کیا بات ہے؟“ رونے کی کیا بات ہے؟ " ارے میں تو لٹ گیا۔ میر تو اس مندے میں دو کروڑ روپے کا نقصان ہو گیا۔ سیٹھ چلایا اپنے سینے پر دو ہتڑ مار کے بولا چیزوں کے دام دو پیسے بھی نیچے گر گئے تو میرا تو اب دیوالہ پٹ جاۓ گا۔ دیوالہ!۔“ آپ گھبرائے نہیں پتا جی !روپ وتی سیٹھ جی کوتسلی دیتے ہوۓ بولی ” آپ ابھی اس کاغذ پر دستخط کئے دیتے ہیں ۔ پھر اس پچیس کروڑ کے ٹھیکے میں سے آپ کا سارا نقصان پورا ہو جاۓ گا‘۔ پھر روپ وتی میرے طرف مڑ کر بولی۔ جلدی سے دستخط کر دو جی ، دیکھتے نہیں ہو تمھارے سسر دیوالیہ ہو رہے ہیں۔“ دستخط تو میں ابھی کئے دیتا ہوں ، میں نے مجبور ہو کے کہا مگر وہ پچیس کروڑ کا ٹھیکہ کدھر ہے؟ ” کیا مطلب؟ سیٹھ من سکھ چونک کر بولے تم اس روز تو خود ہی کہہ ر ہے تھے کہ وزیراعظم سے دوران گفتگو پچیس کروڑ کے ٹھیکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”مگر میں نے جلدی سے بات کاٹ کے کہا مگر آپ نے میری پوری بات کہاں سنی ۔ بات میرے ٹھیکے کی نہیں ہو رہی تھی ۔ برما شیل آئل ریفائنری کے پچیس کروڑ کے پراجیکٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باپ رے میں تو بالکل لٹ گیا ۔ سیٹھ نے زور سے اپنا ماتھا پیٹ لیا پچیس کروڑ کا ٹھیکہ بھی ہاتھ سے گیا ۔ارے لوگو۔ اس کے لئے میں نے کیا کیا نہیں کیا۔اس کم بخت گدھے کو اپنے گھر میں رکھا ۔اسے ایک طرح سے گھر داماد بنایا ۔ اس کے لئے میونسپلٹی سے ایڈریس دلوایا ۔ اخباروں میں اس کے فوٹو نکلواۓ ۔ جلوس ، ہار، خوشبودار گھاس ہاۓ رام میں تو بالکل لٹ گیا۔“ ٹھیکہ نہیں تھا۔ روپ وتی کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے پھر تو ہمارے گھر میں کیا کر رہا ہے؟“ کمینے ! گدھے ”مگر میں تو تمھارا دھبڑو ہوں ۔ تمہارا ڈارلنگ ” حرامزادے۔“ روپ وتی نے بید اٹھا لیا سیٹھ جی نے ڈنڈا۔ ایک نوکر کہیں سے موٹا بانس لے آیا۔ میں نے ادھر ادھر بہت دیکھا۔ مگر سب دروازے بند تھے اور چاروں طرف دیواروں میں کہیں کوئی کھڑکی نہ تھی۔! سٹاپ پریس بولنے والا گدھا کل رات شد ید طور پر زخمی ہو گیا اس کی ہڈی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ ٹانگوں میں بھی ضرب شدید کے نشان ہیں ۔ حملہ آوروں کا پتہ نہیں چل سکا ۔ پریس والے گھسیٹ کر جانوروں کے ہسپتال میں لے گئے ۔ ڈاکٹروں کی نظروں میں اس کی حالت خطرناک بیان کی جاتی ہے ممکن ہے وہ اس حادثے سے جانبر نہ ہو سکے بہر حال علاج جاری ہے۔ ممکن ہے وہ کبھی اچھا ہو جاۓ اور پھر کبھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکے۔ افشا ہونا راز ہاۓ درون پردہ کا گھر لے جا کے سیٹھ من سکھ لال اور اس کی بیٹی روپ وتی نے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس وقت رات ہو چکی تھی ،سڑک پر کہیں کہیں گھوڑے تانگوں میں جتے ہوئے جار ہے تھے ۔ ایک بیل کاغذ سے بھرا ہوا چھکڑا کھینچ لئے جارہا تھا۔ دو کتے زنجیروں میں بندھے ہوۓ ایک نوکر کے ساتھ چلے جارہے تھے ۔ ہم جانوروں کی بھی کیا زندگی ہے؟۔ روپ وتی کے ہاتھ میں ایک پتلی سی بید کی چھڑی تھی ۔ وہ اسے ہاتھ میں لئے لئے ٹہل رہی تھی ۔ اور مارے غصے کے تھر تھر کانپ رہی تھی آخر سیٹھ من سکھ لال نے اسے بہت سمجھایا۔ ” کہا ’ تم اپنے ہونے والے خاوند کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتیں اور وہ بھی شادی سے پہلے ہی“۔ میں نے سیٹھ کی طرفداری کرتے ہوئے کہا آپ بجا فرماتے ہیں، عام طور پر پٹائی محبت کے بعد شروع ہوتی ہے ، یاں محبت سے پہلے ہی پٹائی شروع کر دو گی تو زندگی اجیرن ہو جاۓ گی۔ تم چپ رہو جی ۔روپ وتی نے غصّے سی بید گھماتے ہوئے کہا ۔ "سیٹھ من سکھ لال جی نے بید اسکے ہاتھ سے چھین لی ۔" "روپ وتی بید کے بجاۓ ہاتھ گھماتے ہوۓ بولی اچھا یہ بتاؤ ۔ کیا تم سچ مچ اس کتیا پر عاشق ہو۔“ ” کون ہے وہ؟ میں آپ کا اشارہ نہیں سمجھا۔“ " وہی کملا!" "کملا " "ہاں ۔ ہاں" وہی بےحیا کتیا روپ وتی بڑی نفرت سے بولی ” کم بخت عورت ہے کہ مربے کاڈبّہ ہے ۔ جب دیکھو دو چار مرد اس کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح چمٹے رہتے ہیں!" ” کملا ہے تو بہت خوبصورت میں نے اقرار کرتے ہوئے کہا’واں مقابلہ حسن میں ایک بار تو میرے دل میں بھی یہ خیال آیا تھا کہ اسے ملکہ حسن قرار دے دوں" ۔ تو دے دیا ہوتا‘روپ وتی بڑے غصے میں بولی ’پتاجی۔لانا میرا بید کدھر رکھ دیا آپ نے ۔“ میں نے جلدی سے کہا مگر مجھے اس سے عشق نہیں ہے۔ میں تو اصل ایک گدھا ہوں ایک عورت سے کیسے عشق کرسکتا ہوں۔ سیٹھ من سکھ لال جی بولے بھائی آج کل ایک گدھا ہی عشق کر سکتا ہے۔ ورنہ آج کل کے زمانے میں کسی ذی ہوش آدمی کو عشق کرنے کا خیال ہی کیسے ہو سکتا ہے ۔ دیکھو تو چیزیں کس قدر سستی ہو رہی ہیں ۔ گندم کا بھاؤ گر گیا ہے۔ ابھی ابھی اسٹاک ایکسچینج پر میں نے اس مندے میں دس لاکھ روپے کھو دیئے۔ ارے اس خوفناک ستائی کے زمانے میں کون بھلا مانس عشق کرے گا۔سواۓ ایک گدھے کے!“ میں نے کہا ممکن ہے اسٹاک ایکسچینج پر کچھ چیزیں سستی ہوگئی ہوں گی مگر گھاس تو اسی طرح مہنگی ہے۔میری طرح لاکھوں کروڑوں گدھے ہر روز اسی طرح گھاس کی مہنگائی کا رونا روتے ہیں ۔“ ارے تم جب دیکھو ۔ گدھے کی گھاس کا ذکر کرتے ہو میں کچھ کہنے والاتھا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ۔ اور ایک خادم نے آکے کہا سیٹھ آپ کا ٹیلی فون ہے ۔“ سیٹھ بھی بھاگے بھاگے ٹیلی فون پر غالبا اسٹاک ایکسچینج پر اپنی قسمت کا نیا بھاؤ معلوم کرنے گئے ۔ کمرے میں، میں اور روپ وتی اکیلے رہ گئے۔ روپ وتی نے پوچھا سچ سچ بتاؤ مس کملا تمھیں اچھی لگتی ہے؟ ”ہاں“ اس میں کیا ہے جو مجھ میں نہیں؟آواز میں ڈر اوہ تھا ۔ "میں نے کہا جو سچ پوچھو تو دونوں میں کیا ہے" ۔ روپ وتی اٹھلائی ہوئی میرے پاس آئی ڈارلنگ اس روز میں نے تم سے کہا تھا کہ تم کبھی کبھی سیر کے لئے میرے ساتھ جا سکتے ہو۔“ مگر پیٹھ پر زین کسی ہوگی! مجھے یاد ہے! میں نے اس سے کہا۔ وہ میرے اور بھی قریب آگئی۔ بولی تم ہر روز سیر کے لئے میرے ساتھ جا سکتے ہو اور میں تمہاری پیٹھ پر زین بھی نہیں کسوں گی اور دیکھ تمہاری رسی میں خود اپنے ہاتھ میں رکھوں گی سائیس کو بھی نہ دوں گی ۔ "وہ تو بیوی اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے ۔ شوہر کی رسی!" روپ وتی نے اپنی بانہیں میری گردن میں ڈال دیں بولی اور یہ بھی تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ سال میں دو مرتبہ تم میرے ڈرائنگ روم میں آ کے میرے ساتھ ایک ٹیبل پر کھانا بھی کھاسکتے ہو ۔ وہ کون سے دن ہوں گے؟“ ایک تو تمہاری سالگرہ کے روز ۔ روپ وتی بولی تمہاری سالگرہ کب ہوتی ہے؟ ہوتی ہی نہیں ہے مس روپ وتی “میں نے جھلا کے کہا ” کہیں گدھوں اور عام آدمیوں کی بھی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ یہ سال گرہ اور اس قسم کی باتیں بڑے بڑے آدمیوں تک ہی محدود ہیں۔ اچھا خیر ۔ چلئے۔ ایک تو ہماری سالگرہ کے روز آپ ہم سے ڈرائنگ ٹیبل پر ملیں گی اور وہ دوسرا خوش نصیب دن کونسا ہوگا؟ ”جس دن ہم اپنی شادی کی سالگرہ منایا کر یں گے ۔ مس روپ وتی فلم ایکٹرسوں کی طرح لجا کے بولی اور اس نے میرے کان پر ایک بوسہ دیا۔ پھر آہستہ سے اس نے ایک کاغذ میرے سامنے بڑھا دیا۔ ”یہ کیا ہے؟ میں نے پوچھا۔ "کنٹریکٹ ہے" ۔ "شادی کا کنٹریکٹ" ؟ "نہیں پیارے یہ تمہارے اور پتا جی کے بزنس پارٹنر شپ کا کنٹریکٹ ہے" ۔ "لو اب جلدی سے دستخط کر دو نہ میرے ڈونکی مونکی " میں نے کہا ذرا اپنے رخسار پرے ہٹا لو۔ مجھے گد گدی ہوتی ہے۔“ روپ وتی کی آنکھوں میں، میں نے غصے کی ایک جھلک دیکھی ۔ دوسرے لمحے میں غائب تھی ۔ بڑی مشکل سے جانے کس طرح اس نے اپنی نفرت کو مجھ سے چھپا لیا تھا اور اب اسی طرح میرے گلے سے لگی ہوئی کہہ رہی تھی۔ جلدی سے اس کاغذ پر دستخط کرونا۔ کیا تم میرے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے ،ڈھبرو؟ میں نے کہا ”میں تمہارے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں۔ میں تمھیں اپنی پیٹھ پر سوار کر کے بارہ بنکی تک لے جا سکتا ہوں۔ تمھاری نئی کوٹھی کے لئے میں ہزاروں اینٹیں ڈھوسکتا ہوں۔ تمھاری کھڑکی کے نیچے کھڑا ہو کر رات رات بھر پکا گانا سنا سکتا ہوں مگر اس کاغذ پر دستخط نہیں کر سکتا۔ ” کیوں؟“ میں کچھ کہنے والا تھا کہ اتنے جلدی سے دروازہ کھلا اور سیٹھ من سکھ لال پریشان حال پسینے میں تر بتر ہانپتا ہوا اندر آیا۔ آتے ہی روپ وتی سے کہنے لگا" غضب ہو گیا ، غضب ہو گیا ۔ چیزیں اور ستی ہو گئیں ۔ چاول کا بھاؤ دو آ نے من گر گیا۔ کپڑا ایک آنا گز سستا ہو گیا۔ سیمنٹ پر سے سرکاری کنٹرول اٹھ گیا۔ سیمنٹ اک دم چار آنے پونڈ نیچے گیا۔ ایک دم سستا ہو گیا۔“ سیٹھ ایک دم رو کر کہنے لگا’ ہے رام ۔ اب کیا ہو گیا۔“ میں نے حیرت سے کہا چاول کپڑے سیمنٹ کے دام ذرا سے کم ہو گئے تو اس میں کیا برا ہے ۔ عام لوگوں کے لئے یہ چیزیں خریدنے میں ذرا سی آسانی ہو جاۓ گی ۔اس میں رونے کی کیا بات ہے؟“ رونے کی کیا بات ہے؟ " ارے میں تو لٹ گیا۔ میر تو اس مندے میں دو کروڑ روپے کا نقصان ہو گیا۔ سیٹھ چلایا اپنے سینے پر دو ہتڑ مار کے بولا چیزوں کے دام دو پیسے بھی نیچے گر گئے تو میرا تو اب دیوالہ پٹ جاۓ گا۔ دیوالہ!۔“ آپ گھبرائے نہیں پتا جی !روپ وتی سیٹھ جی کوتسلی دیتے ہوۓ بولی ” آپ ابھی اس کاغذ پر دستخط کئے دیتے ہیں ۔ پھر اس پچیس کروڑ کے ٹھیکے میں سے آپ کا سارا نقصان پورا ہو جاۓ گا‘۔ پھر روپ وتی میرے طرف مڑ کر بولی۔ جلدی سے دستخط کر دو جی ، دیکھتے نہیں ہو تمھارے سسر دیوالیہ ہو رہے ہیں۔“ دستخط تو میں ابھی کئے دیتا ہوں ، میں نے مجبور ہو کے کہا مگر وہ پچیس کروڑ کا ٹھیکہ کدھر ہے؟ ” کیا مطلب؟ سیٹھ من سکھ چونک کر بولے تم اس روز تو خود ہی کہہ ر ہے تھے کہ وزیراعظم سے دوران گفتگو پچیس کروڑ کے ٹھیکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”مگر میں نے جلدی سے بات کاٹ کے کہا مگر آپ نے میری پوری بات کہاں سنی ۔ بات میرے ٹھیکے کی نہیں ہو رہی تھی ۔ برما شیل آئل ریفائنری کے پچیس کروڑ کے پراجیکٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باپ رے میں تو بالکل لٹ گیا ۔ سیٹھ نے زور سے اپنا ماتھا پیٹ لیا پچیس کروڑ کا ٹھیکہ بھی ہاتھ سے گیا ۔ارے لوگو۔ اس کے لئے میں نے کیا کیا نہیں کیا۔اس کم بخت گدھے کو اپنے گھر میں رکھا ۔اسے ایک طرح سے گھر داماد بنایا ۔ اس کے لئے میونسپلٹی سے ایڈریس دلوایا ۔ اخباروں میں اس کے فوٹو نکلواۓ ۔ جلوس ، ہار، خوشبودار گھاس ہاۓ رام میں تو بالکل لٹ گیا۔“ ٹھیکہ نہیں تھا۔ روپ وتی کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے پھر تو ہمارے گھر میں کیا کر رہا ہے؟“ کمینے ! گدھے ”مگر میں تو تمھارا دھبڑو ہوں ۔ تمہارا ڈارلنگ ” حرامزادے۔“ روپ وتی نے بید اٹھا لیا سیٹھ جی نے ڈنڈا۔ ایک نوکر کہیں سے موٹا بانس لے آیا۔ میں نے ادھر ادھر بہت دیکھا۔ مگر سب دروازے بند تھے اور چاروں طرف دیواروں میں کہیں کوئی کھڑکی نہ تھی۔! سٹاپ پریس بولنے والا گدھا کل رات شد ید طور پر زخمی ہو گیا اس کی ہڈی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ ٹانگوں میں بھی ضرب شدید کے نشان ہیں ۔ حملہ آوروں کا پتہ نہیں چل سکا ۔ پریس والے گھسیٹ کر جانوروں کے ہسپتال میں لے گئے ۔ ڈاکٹروں کی نظروں میں اس کی حالت خطرناک بیان کی جاتی ہے ممکن ہے وہ اس حادثے سے جانبر نہ ہو سکے بہر حال علاج جاری ہے۔ ممکن ہے وہ کبھی اچھا ہو جاۓ اور پھر کبھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکے۔